Quicklists
This content requires JavaScript and Macromedia Flash Player 7 or higher. Get Flash

Nohay 2019 - Bharay Darbar Main Muslim Ka Ana Aur Tha | Syed Raza Abbas Zaidi | Mola Sajjad Noha

azadarimarkaz

178 Views

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم Nohay 2019 - Bharay Darbar Main Muslim Ka Ana Aur Tha | Syed Raza Abbas Zaidi | Mola Sajjad Noha ---------------------------------------------- Kalam Title | Bharay Darbar Main Muslim Ka Ana Aur Tha Recited By | Syed Raza Abbas Zaidi Poetry By | Arif Sahaab (Skardu) Composition and Arrangemant | Raza Shah Volume | Album 14th/2019 20 Chorus By | Rajab Ali Khan , Amanat Ali Khan , Ghulam Abbas Video | Tna Production Ali Arman Label | RAZ Records Cover Design By | Qasim Zaidi Audio Recorded & Master/Mixing | ODS Studio --------------------------------------------- #BharayDarbarMainMuslimKaAna #Nohay2019 #SyedRazaAbbasZaidi ---------------------------- On the arrival of Muharram Many Condolences to Prophet Muhammad (Saww) and Hazrat Fatima Zahra (as) and Especially to Imam e Zamana (AJF) ----------------------------------------- Follow US On Our Social Media Channels: "Official Website" https://www.razaabbas.com "Follow on Facebook" https://www.facebook.com/SyedRazaAbbasZaidiOfficial "Subscribe Youtube Channel" https://www.youtube.com/c/syedrazaabbaszaidi "Follow on Instagram" https://www.instagram.com/syedrazaabbaszaidi "Follow on Twitter" https://twitter.com/razaabbaszaidi "Follow on SoundCloud" https://soundcloud.com/syedrazaabbaszaidiofficial ------------------------------------------- NOHA LYRICS کوفہ میں اجڑ کے کربل سے جب روتے ہوے قیدی پہنچے دربار سجا اور پیشی ہوئ عابد پہ ضعیفی طاری تھی اک شخص کہ جس نے دیکھا تھا دربار میں مسلم کا آنا سجاد سے کہتا تھا مولا مسلم کو یہاں جب لایا گیا بارعب تھا لہجہ سر تھا اٹھا سر آپ کا لیکن نہیں اٹھتا آنکھوں سے لہو کیوں بہتے ہیں سجاد یہ سن کر کہتے ہیں بھرے دربار میں مسلم کا آنا اور تھا۔ میرا پھپیوں کو اپنے ساتھ لانا اور ہے۔ چچا مسلم رداییں مانگ کر روے نہیں تھے مگر سیدانیاں بھی بے ردا ہیں ساتھ میرے وہ تنہا قید ہوکر سر کٹانا اور تھا رداییں دیکھتے نیزوں پہ آنا اور ہے وطن سے کربلا تک ساتھ سایا بن کے آے چچا عباس پردے میں پھوپھی اماں کو لاے پھوپھی زینب کا وہ محمل میں جانا اور تھا بنا چادر کے یوں کوفے میں آنا اور ہے اسی کوفہ کے حاکم جب میرے دادا علی تھے روایت تھی ہماری ہم رداییں بانٹتے تھے رداییں بانٹنے کا وہ زمانہ تھا رداییں مانگنے کا یہ زمانہ اور ہے اگر اولاد والے ہو تو سمجھو گے یہ صدمہ میری ماں دیکھ آی خاک پر اصغر کا لاشہ وہ اماں کا اسے لوری سنانا اور تھا جلے جھولے کو سینے سے لگانا اور ہے سناں سینے پہ مقتل مین علی اکبر نے کھای مجھے کربل سے امت ہے سر بازار لای سناں اک بار ہی سینے پہ کھانا اور تھا مسلسل قتل ہوتے شام جانا اور ہے اجڑ کے کربلا سے شام تک تک میں آچکا ہوں خدا جانے بدن پر زخم کتنے کھا چکا ہوں چچا کے ساتھ وہ رستہ بنانا اور تھا بندھے ہاتھوں سے لوگوں کو ہٹانا اور ہے ہاں عزادارو نہ عابد کے ہوے صدمے تمام بعد کوفہ کے جو پہنچا بے وطن بازار شام قافلے کی راہ میں پھر اک سوالی آگیا وہ مسافر نام جس کا سہل ابن سعد تھا پوچھا اس نے خون مولا رو رہے ہو کس لیے تب غریب شام یہ تھامے کمر کہنے لگے۔۔۔۔۔ سہل دیکھو سناں کی نوک پر بابا کا سر ہے بندھا غازی کا سر بھی گردن رہوار پر ہے مقابل شامیوں کے ان کا جانا اور تھا میرا بازار میں خم ہو کے آنا اور ہے رسن میں ساتھ میرے ہیں بندھے معصوم بچے میں جھک کر نہ چلوں تو بھی گلے دکھتے ہیں ان کے وہ بابا کا انہیں پانی پلانا اور تھا میرا بچوں کو پانی دے نہ پانا اور ہے سحاب اصغر کی تربت شہ نے ہاتھوں سے بنائی رضا عابد نے کیسے بہن کی میت اٹھائ کھلے ہاتھوں سے تربت کا بنانا اور تھا بندھے ہاتھوں سے میت کا اٹھانا اور ہے ------------------------------------------------- Copyright strictly prohibited © Copyright Information: • All Rights of Nauhas, artwork, logo, audio & video are reserved by RAZ Records .

  • CategoryNohay
  • Duration: 10:20
  • Date:  1 month ago
  • Tags:   no-tag

Please select playlist name from following

Report Video

Please select the category that most closely reflects your concern about the video, so that we can review it and determine whether it violates our Community Guidelines or isn’t appropriate for all viewers. Abusing this feature is also a violation of the Community Guidelines, so don’t do it.

0 Comments